عظیم باکسر محمد علی کلے کی یاد میں

لیجنڈ ری ہیوی ویٹ باکسر کو مداحوں سے بچھڑے8برس بیت گئے
0
40

تجزیہ: کاظم جعفری

باکسر محمد علی کلے: چند ناقابل فراموش واقعات:

لیجنڈ ری ہیوی ویٹ باکسر محمد علی کلے کو مداحوں سے بچھڑے8برس بیت گئے۔ دنیائے باکسنگ پر کئی برس تک راج کرنیوالے محمد علی کلے نے 3جون 2016کو وفات پائی۔  ان جیسا کوئی باکسر پیدا ہوا اور نہ ہوگا، کیونکہ انہوں نے جب بھی رنگ میں قدم رکھا تو حریف کو چاروں شانے چت کرنے کے بعد ہی باہر نکلے۔

محمدعلی کلے کا مشرف بہ اسلام ہونا:

محمدعلی کلے نے17جنوری1942کو امریکا کے شہر لوئسویل کے ایک مسیحی گھرانے میں آنکھ کھولی اور ان کا نام کلے رکھا گیا،تاہم انہوں نے70 کی دہائی میں اسلام قبول کر لیا۔ مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد محمد علی کلے ہمیشہ نماز کی ادائیگی کے بعد ہی رنگ میں اترتے تھے۔

باکسنگ میں کیرئیر کا آغاز اور اعزاز:

محمد علی کلے نے 29 اکتوبر 1960 کو آبائی قصبے لوئسویل میں پہلا مقابلہ جیتا۔ باکسنگ میں ان کا کیریئر ایک شوقیہ کھلاڑی کی حیثیت سے کامیاب رہا، لیکن ان کو عظمت اس وقت حاصل ہوئی جب ساٹھ کی دہائی میں انہوں نے روم اولمپِک میں سونے کا تمغہ جیتا۔یہ تمغہ جیتنے کے بعد محمد علی کلے کو نسل پرستی کا سامنا بھی کرنا پڑا،مگر اس کے باوجود ان کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا اور40 سال کی عمر میں انہوں نے باکسنگ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔انہوں نے اپنے 20 سالہ باکسنگ کیریئر کے دوران 56 مقابلے جیتے اور 37 میںناک آوٹ سکور کیا ۔

ریٹائرمنٹ کے بعد سونے کا تمغہ کیسے اور کیوں ملا؟

محمد علی نے 40 برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا اور 1980 میں ان کی صحت خراب رہنے لگی تھی۔انہیں رعشہ کا مرض لاحق ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق سر پر لگنے والے مکوں کی وجہ سے بھی وہ اس مرض میں مبتلا ہوئے، تاہم1996 کے اٹلانٹا اولمپکس کی مشعل اٹھانے کا اعزاز محمد علی کلے کو ملا، اس وقت دنیا بھر کی توجہ ان کی صحت پر مرکوز تھی۔ اہم بات یہ تھی کہ اس موقع پر انہیں سونے کے تمغے سے نوازا گیا،جو اس تمغے کے بدلے میں تھا جو انہوں نے دلبرداشتہ ہو کر دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔

سپورٹس مین آف داسنچری کا خطاب

باکسنگ کے میدان میں شاندار خدمات پر برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کے ناظرین نے محمد علی کلے کو ’’صدی کی سب سے عظیم کھلاڑی شخصیت‘‘قرار دیا ، جبکہ امریکی جریدے سپورٹس السٹریٹڈ نے ’’سپورٹس مین آف داسنچری‘ ‘کے خطاب سے نوازا ۔

نسل پرستی اور قومیت کو شکست دیکر نام امر کیا:

رعشے کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد محمد علی کلے نے باکسنگ رِنگ تو چھوڑ دیا ، تاہم فلاحی کاموں کو نہیں چھوڑا، اپنے آبائی قصبے لوئسویل میں 6 منزلہ محمد علی ویلفیئر سینٹر بھی قائم کیا تھا۔ محمد علی کلے نے مخالف باکسرز ہی کو چِت نہیں کیا بلکہ نسل پرستی اور قومیت کو بھی شکست دی اور اپنا نام امر کیا۔

ازدواجی زندگی اور پسماندگان:

محمد علی نے زندگی میں 4 شادیاں کیں، ان کی 7 بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ بیٹیوں میں حنا، لیلیٰ، مریم، رشیدہ، جمیلہ، میا، خالیہ جبکہ 2 بیٹے اسعد علی اور محمد علی جونیئر ہیں۔ سانس لینے میں تکلیف کے باعث انہیں 2 جون 2016 کو ہسپتال داخل کروایا گیا، تاہم اگلے روز 3 جون 2016 کو
ان کی حالت مزید بگڑ گئی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

سوانح حیات: عظیم ترین:میری اپنی کہانی:

دی گریٹ: مائی اون سٹوری، 1975 میں شائع ہونے والی محمد علی کی سوانح حیات ہے۔ محمد علی کی کتاب رچرڈ ڈرہم کے تعاون سے لکھی گئی اور نوبل انعام یافتہ ناول نگار ٹونی موریسن نے اس کی تدوین کی تھی۔ اس کتاب میں محمدعلی نے باکسنگ رنگ کے اندر اور باہر ہونے والی لڑائیوں (فائٹس) کی پس پردہ کہانیاں اور ذاتی زندگی کی ان کہی باتیں بیان کی ہیں۔

Leave a reply