کال ریکارڈنگ کیس کی سماعت میں جسٹس بابر ستار کا اہم فیصلہ

0
17

پاکستان ٹوڈے کی تفصیلات کے مطابق اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی ، ایف آئی اے اور آئی بی سمیت کسی ادارے یا ایجنسی کو آڈیو ٹیپ کی اجازت نہیں دی ۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی ، ایف آئی اے اور آئی بی سمیت کسی ادارے یا ایجنسی کو آڈیو ٹیپ کی اجازت نہیں دی ۔ اگر کوئی حکومتی ایجنسی یہ ریکارڈنگز کر رہی ہے تو وہ غیر قانونی طریقے سے کر رہی ہے ۔ جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دئیے جو بھی آتا ہے کہتا ہے۔

آڈیو ٹیپ کی اجازت نہیں ، پھر ایسا کون اور کیوں کر رہا ہے یہ کوئی نہیں بتاتا، اب وفاقی حکومت پر ہے کہ وہ کیسے اس کیس کو چلانا چاہتی ہے ، اگر حکومت نے نہیں بتایا تو عالمی ماہرین کی مدد لینگے ، ہم نیشنل اور انٹرنیشنل عدالتی معاون مقرر کریں گے ۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب اور بشری ٰبی بی کی آڈیو لیکس پر پارلیمانی کمیٹی اور ایف آئی اے میں طلبی کے نوٹسز کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی ۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ فوری طور پر ایکشن نہیں لے سکتے، معاملہ پیمرا کونسل آف کمپلینٹ کے پاس جائے گا ۔ بشریٰ بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا ایک دفعہ نہیں پورا دن ٹی وی چینلز پر وہ آڈیو لیکس چلتی رہیں ۔ عدالت نے ٹی وی چینلز ضابطہ اخلاق سے متعلق سینئر صحافیوں کو بھی عدالتی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ۔

جسٹس بابر ستار نے عدالتی معاون اعتزاز احسن کو مخاطب کر کے کہا ایک طرف فریڈم آف انفارمیشن دوسری طرف پرائیویسی کا معاملہ ہے کیسے بیلنس ہونا چاہیے ،  آپ بتائیں کیسے اس کیس کو اب آگے بڑھایا جائے ۔

جسٹس بابر ستار نے عدالتی معاون اعتزاز احسن کو مخاطب کر کے کہا ایک طرف فریڈم آف انفارمیشن دوسری طرف پرائیویسی کا معاملہ ہے کیسے بیلنس ہونا چاہیے ، آپ بتائیں کیسے اس کیس کو اب آگے بڑھایا جائے ۔ اعتزاز احسن نے کہا سیلف ریگولیشنز ہونی چاہئیں، یہاں تو آئین پر عمل نہیں کیا جاتا ، آئین نے 90 دن میں الیکشن کا کہا عمل نہیں ہوا ۔

جسٹس بابر ستار نے عدالت میں ٹیلی کام کمپنیز کو فون کال اور ڈیٹا تک رسائی اور اس کے استعمال سے روک دیا اگر کمپنیز نے یہ اجازت دی تو انکے خلاف کریمنل کاروائی ہو گی۔

Leave a reply