روسی تیل پرامریکی پابندیوں میں نرمی،یورپی رہنماؤں کی کڑی تنقید

آبنائےہرمزکی بندش کےباعث روسی تیل پرامریکی پابندیوں میں نرمی کی وجہ سےیورپی رہنماؤں نے امریکاکے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔
امریکااوراسرائیل کےتہران پرحملےکےباعث ایران نےآبنائےہرمزیعنی سمندری گزرگاہ جہاں سے دنیاکے بیشترممالک کی تجارت کےلئےبحری جہاز گزرتےہیں کوبندکردیاجس کےنتیجےمیں روسی تیل کی مانگ بڑھ گئی ہے اور روس دنیا کو یومیہ 15 کروڑ ڈالر کا تیل فروخت کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکانےآبنائےہرمزکی بندش سےتیل کی قیمتوں پر پڑنے والا دباؤ کنٹرول کرنے کے لیے روسی تیل کی فروخت پر عائد پابندی عارضی طور پر اٹھالی ہے۔
فنانشنل ٹائمز نے لکھا ہے کہ حالیہ صورتحال میں روس نےجوتیل چین اوربھارت کوبیچااُس پر صرف ٹیکس کی مد میں 2 ارب ڈالرز کمائے ہیں۔
روسی تیل پرپابندیوں میں نرمی پرامریکاکویورپی رہنماؤں کی تنقیدکاسامنا:
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکاکےاقدام پرتنقیدکرتےہوئےیورپی رہنماؤں کاکہناہےکہ اس اقدام سے روس کو جنگ کیلئے مزید مالی وسائل مل سکتے ہیں لہٰذا روس پر دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے، فرانس اور یوکرینی صدر نے بھی امریکی فیصلے کی مخالفت کی ہے۔
جرمن چانسلرکاایران کے خلاف جنگ پر امریکی صدرڈونلڈٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہناتھاکہ امریکی صدر کے پاس خلیج فارس میں جنگ ختم کرنے کی واضح حکمت عملی نہیں ہے، ایران جنگ کی وجہ سے جرمنی کی توانائی کی قیمتوں پر شدید اثرپڑاہے۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا ردعمل:
دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کاردعمل دیتےہوئےکہناتھاکہ امریکانےبھارت کوکئی ماہ تک روسی تیل نہ خریدنےپرروکےرکھا،مگر 2 ہفتوں کی جنگ کے بعدامریکا دنیا سے اسی روسی تیل خریدنے کی بھیک مانگ رہا ہے۔
عباس عراقچی کا مزید کہناتھاکہ یورپ کوخام خیالی تھی کہ اسے روس کے خلاف امریکی حمایت مل جائےگی، یہ افسوسناک ہے۔














