آئندہ مالی سال کابجٹ قومی اسمبلی سےمنظور، اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد

0
11

قومی اسمبلی نے مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی، جس میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی متعدد سفارشات کو شامل کیا گیا ہے۔ منظور شدہ بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن کا تخمینہ 11 ہزار 751 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے۔

حکومتی اتحاد نے اپنا مسلسل تیسرا بجٹ قومی اسمبلی سے منظور کرا لیا۔ بجٹ پر اپوزیشن اور مختلف جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی متعدد ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں، جبکہ بعض ارکان نے اپنی تجاویز واپس بھی لے لیں۔

قائمہ کمیٹی خزانہ کی سفارش پر پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق ایک شق حذف کر دی گئی۔ اسی طرح قانون میں یہ ترمیم بھی شامل کی گئی کہ کسی کے اثاثے ضبط کرنے سے قبل متعلقہ فرد یا ادارے کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔

بجٹ میں فضائی شعبے کے لیے بھی اہم ریلیف دیا گیا ہے، جس کے تحت قومی ایئرلائن کے ساتھ دیگر رجسٹرڈ ایئرلائنز کو بھی طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

فنانس بل میں کی گئی ترامیم کے مطابق اسٹیٹ بینک کو بینکاری معلومات کے لیے مرکزی ورچوئل ڈیٹا ذخیرہ قائم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، تاہم شہریوں کا بینکاری ڈیٹا براہِ راست ٹیکس حکام کو فراہم نہیں کیا جائے گا۔

بجٹ میں الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر نئے ٹیکس بھی عائد کیے گئے ہیں۔ مخصوص مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد جبکہ اس سے مہنگی گاڑیوں پر 40 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہوگی۔ اسی طرح بڑی انجِن صلاحیت رکھنے والی اور لگژری گاڑیوں پر بھی اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

بجٹ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

Leave a reply