امریکا چین اے آئی جنگ میں نیا موڑ،اینتھراپک کا علی باباپرمصنوعی ذہانت چوری کاالزام

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھراپک نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا پر اپنے جدید اے آئی ماڈل سے معلومات حاصل کرنے کی منظم کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اینتھراپک کا کہنا ہے کہ یہ اس کے خلاف اب تک سامنے آنے والا سب سے بڑا مبینہ سائبر اور ڈیٹا حاصل کرنے کا واقعہ ہے۔
کمپنی کے مطابق مبینہ طور پر ’’ڈسٹلیشن‘‘ نامی تکنیک استعمال کی گئی، جس کے ذریعے کم صلاحیت والے اے آئی ماڈلز کو طاقتور ماڈلز کے جوابات کی بنیاد پر تربیت دے کر ان کی کارکردگی بہتر بنائی جاتی ہے۔
اینتھراپک نے دعویٰ کیا کہ 22 اپریل سے 5 جون 2026 کے دوران تقریباً 25 ہزار جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اس کے اے آئی پلیٹ فارم کے ساتھ 2 کروڑ 88 لاکھ سے زائد بار رابطہ کیا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس سرگرمی کا مقصد اس کے جدید Mythos Preview ماڈل کی صلاحیتوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
کمپنی نے امریکی سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کو بھیجے گئے خط میں الزام لگایا کہ یہ کارروائی مبینہ طور پر علی بابا اور اس کی مصنوعی ذہانت کی ذیلی لیبارٹری کوئن سے منسلک آپریٹرز نے انجام دی۔ تاہم علی بابا نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی برتری حاصل کرنے کی دوڑ تیزی اختیار کر رہی ہے اور اے آئی ماڈلز کے تحفظ، ڈیٹا سکیورٹی اور دانشورانہ ملکیت کے حقوق سے متعلق خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
Leave a reply جواب منسوخ کریں
اہم خبریں
سائنس/فیچر

پاکستان ٹوڈے ڈیجیٹل نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔














