آبنائےہرمزکی بندش سےتوانائی کےبعدعالمی غذائی نظام کوبھی خطرہ

0
6

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے اثرات صرف تیل کی عالمی سپلائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے خوراکی نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کھاد (فِرٹیلائزر) کی بڑی مقدار بھی اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، جو زرعی پیداوار کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر یوریا کا ایک بڑا حصہ، جو فصلوں کی افزائش کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، بھی اسی راستے سے منتقل ہوتا ہے، اور موجودہ کشیدگی کے باعث اس کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کھاد کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں کمی، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور بعض علاقوں میں غذائی قلت جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے بھی خبردار کیا ہے کہ صورتحال طویل ہونے کی صورت میں دنیا بھر میں مزید لاکھوں افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت عالمی توجہ زیادہ تر توانائی کی قیمتوں پر مرکوز ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل طویل مدتی اثر خوراک اور زرعی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔

Leave a reply